اِسے کہتے ہیں خضر قوم بعض احمق زمانہ میں

 

اِسے کہتے ہیں خضر قوم بعض احمق زمانہ میں
یہ وہ ہے آٹھ سو کم کر کے جو کچھ رہ گیا باقی

مزارِ پیر نیچر سے بھی نکلے گی صدا پیہم
چڑھا جاؤ گرہ میں ہو جو کچھ پیسا ٹکا باقی

نئی ہمدردیاں ہیں لوٹ کر ایمان کی دولت
نہ چھوڑا قوم میں افلاس عقبیٰ کے سوا باقی

ظروفِ مے کدہ توڑے تھے چن کر محتسب نے سب
الٰہی رہ گیا کس طرح یہ چکنا گھڑا باقی

مریدوں پر جو پھیرا دست شفقت پیر نیچر نے
نہ رکھا دونوں گالوں پر پتا بھی بال کا باقی

مسلماں بن کے دھوکے دے رہا ہے اہل ایماں کو
یہی ہے ایک پہلے وقت کا بہروپیا باقی

غضب ہے نیچری حُسنِ خرد پر ناز کرتے ہیں
نہیں کیا شیر پور میں کوئی ان کے جوڑ کا باقی

علی گڑھ کے سفر میں صرف کر دی دولتِ ایماں
بتاؤ مجھ کو زیر مدِّ باقی کیا رہا باقی

گیا ایمان تو داڑھی بھی پیچھے سے روانہ کی
پرانے رنگ کا اب کیوں رہے کوئی پتا باقی

بپا بوٹے بہ بر کوٹے و بر سر سُرخ سر پوشے
کہو اب بھی مسلماں ہونے میں کچھ رہ گیا باقی

عقب میں ہے اگر کتا تو پھر میں کیا کہوں کیوں ہے
جو آگے ہے تو ان کا ہے یہی اک پیشوا باقی

مشائخ تو مشائخ ہیں کرامت تو کرامت ہے
انہوں نے انبیا میں بھی نہ رکھا معجزا باقی

یہ منکر اس کے منکر اس کے منکر سب کے منکر ہیں
سمجھ لیجے کہ سارے کلمہ میں ہے حرفِ لا باقی

رسولی کو رسالت کی سند سمجھے ہیں کیا جاہل
نہ رکھا جو نبی کہنے میں کوئی مرحلہ باقی

کیا تو پارسل ایمان کا سی ایس آئی کو
پر اس کے ٹوٹنے کا دل میں اندیشہ رہا باقی

لگائی احتیاطاً چار جانب آڑ داڑھی کی
اور اتنے وزن کی محصول میں تھی تھی بھجا باقی

عجب ہے نیچری بے وقت کی کیوں کر اُڑاتے ہیں
اگر تم نے چری دیکھو نہ پاؤ گے صدا باقی

جو مرغی کے گلے کا گھونٹنا جائز سمجھتے ہیں
انہیں پھر حرمت و حلت سے کیا مطلب رہا باقی

چھری کانٹا لیے مُردار مرغی سے جو لڑتے ہوں
پھر ایسوں کی شجاعت میں رہا کیا مرحلہ باقی

الٰہی نیچریت ہے کہ کوئی بالخوارہ ہے
سر ُمو بھی نہ رکھا جس نے داڑھی کا پتا باقی

جسے تکتی تھیں وقت بذلہ سنجی غیر قومیں سب
سوائے ڈیم فول اُس منہ میں اب کچھ نہ رہا باقی

علم ان کے مسلمانوں کے ہیں اور ان سے ظاہر ہے
برائے نام اب اسلام ان میں رہ گیا باقی

مڈل نے مذہب و ملت سے غفلت میں رکھا کیا کیا
نہ یادِ کبریا باقی نہ ذکرِ مصطفی باقی

قریبِ پاس جا کر دُور ایماں سے ہوئے اکثر
جو دُور اس پاس سے ہیں پاسِ دیں ان کو رہا باقی

ملی ہے زک پہ زک بدمذہبوں کو اہل سنت سے
مگر اب بھی ہے وہ جرأت وہ ہمت حوصلہ باقی

اگر ایمان رکھتے ہوں تو وہ ایمان سے کہہ دیں
جو دل میں منصفی آنکھوں میں ہو شرم و حیا باقی

ثبوتِ حق میں اہل حق نے تحقیقات کی کیا کیا
کوئی اِیراد کوئی شبہہ کوئی شک رہا باقی

معاند اہل سنت پر اگر پا جائیں گے قابو
مسلمانی کا عالم میں نہ چھوڑیں گے پتا باقی

حسنؔ پہلے تو کرتا ہے دعا ان کی ہدایت کی
نہ ہو منظور تو ان کو فنا فرما دے یَا بَاقِی

ذوقِ نعت

 

نامیؔ خستہ نہ نالم بچہ رو
کوہ افتاد دریغا افتاددلم از فرقت استادم سوخت
ازلبم چوں نہ برآید فریادہر کہ پُرسید زمن باعث غم
گفتمش سوئے جناں رفت استاد

سال فوتش ز جوابم جوئید
دیگر امروز نمید ارم یاد

۱۳۲۶ھ
تمت٭

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.