ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں

 

ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
کیوں نہیں دیتا ہمیں جامِ شرابِ ارغواں

تشنہ کاموں پر ترس کس واسطے آتا نہیں
کیوں نہیں سنتا ہے مے خواروں کی فریاد و فغاں

جام کیوں اوندھے پڑے ہیں کیوں ہیں منہ شیشوں کے بند
عقدۂ لاحل بنا ہے کیوں ہر اِک خُمِ مے کا دہاں

کیوں صدا قلقل کی مینا سے نہیں ہوتی بلند
کیوں اُداسی چھا رہی ہے کیوں ہوئی سونی دکاں

کیوں ہے مہر خامشی منہ پر سبُو کے جلوہ ریز
کچھ نہیں کھلتا مجھے کیسا بندھا ہے یہ سماں

کس قدر اعضا شکن ہے یہ خمارِ جاں گسل
ہے جماہی پر جماہی ٹوٹتی ہیں ہڈیاں

کیا غضب ہے تجھ کو اِس حالت پہ رحم آتا نہیں
خشک ہے منہ میں زباں آتی ہیں پیہم ہچکیاں

آمدِ بادِ بہاری ہے گلستاں کی طرف
فصلِ گلشن کر رہی ہے کیا ہی رنگ آمیزیاں

ابر کی اٹکھیلیوں سے جوبنوں پر ہے بہار
پڑ رہی ہیں پیاری پیاری ننھی ننھی بوندیاں

چار جانب سے گھٹاؤں نے بڑھائے ہیں قدم
توسِن بادِ صبا پر لی ہے راہِ بوستاں

جشن گل کا شور ہے فصل چمن کا زور ہے
ابر اٹھا ہے گرجتا کوندتی ہیں بجلیاں

ٹکٹکی باندھے ہوئے نرگس تماشے پر ہے لوٹ
محو وصف جلوۂ گلشن ہے سوسن کی زباں

شاخِ گل پر بلبلیں ہیں نغمہ سنجِ فصل گل
سرو پر بیٹھی ہوئی کرتی ہیں کُو کُو قمریاں

اس قدر ہے جوش پر حسن عروسِ گل کہ آج
باغ میں ملتی نہیں بلبل کو جاے آشیاں

ٹھنڈی ٹھنڈی پیاری پیاری چلتی ہے بادِ نسیم
جھومتی ہیں وجد میں کیا کیا چمن کی ڈالیاں

مست و بے خود بیٹھے ہیں مرغانِ گلشن شاخ شاخ
کر رہے ہیں اپنی اپنی لے میں مدحت خوانیاں

تا کہ دیکھے گل کا جوبن نرگسِ مخمور بھی
سوتے سوتے چونک کر اُٹھی ہے مَلتی انکھڑیاں

دیتے ہیں غنچے چٹک کر یہ صدا ہر سمت سے
ہم بھی دیکھیں گے ذرا فصل بہاری کا سماں

کب ہیں یہ شبنم کے قطرے برگِ گل پر آشکار
ہیں عروسِ گل کے کانوں میں جڑاؤ پتیاں

گُدگُداتی ہے مرے دل کو ہواے مے کشی
آرزوئیں کر رہی ہیں کس قدر اٹکھیلیاں

حسرتیں کہتی ہیں ہم کو کس پہ چھوڑا آپ نے
خواہشیں کرتی ہیں شکوے کیوں ہوئے نا مہرباں

دیر کارِ خیر میں اس درجہ کرتا ہے کوئی
ہاں خدارا ساقیا اِرحم بحال نیمِ جاں

چار دن کی چاندنی ہے یہ اندھیرا پاکھ ہے
پھر کہاں ہم اور کہاں یہ دُختِ رز کی شوخیاں

پانی پی پی کر دعا دوں تجھ کو گر پاؤں مراد
دیر کیوں کرتا ہے پیارے فصل گلشن پھر کہاں

دے کوئی ساغر چھلکتا سا شرابِ تند کا
بول بالا ہو ترا اے ساقیِ حاتم نشاں

مدح کرتا ہوں میں اب اک رہنما کے عرس کی
چھوڑ کر فکرِ خط و خالِ حسینانِ جہاں

واہ وا کیا عرس ہے، کیا عرس ہے کیا عرس ہے
جس میں ہیں تشریف فرما غوث و اَبدالِ جہاں

سر جھکائے بیٹھے ہیں حلقہ کیے سارے مرید
حالِ دل کرتے ہیں سرکارِ معلی میں عیاں

ہر اَدا سے انکشافِ معنی و مقصود ہے
ہو رہا ہے کیا لطیفوں میں عیاں سرِ نہاں

ہے کہیں ذکر جلی تو ہے کہیں ذکر خفی
اپنے اپنے حال میں مصروف ہیں پیر و جواں

دل کے آئینوں کی صیقل ذکر ارّہ سے کہیں
ہیں کسی جا ذکر قمری کی عیاں رنگینیاں

ضرب اِلَّا اللّٰہ سے کرتا ہے کوئی دل کو صاف
ہے کہیں اثبات نفی غیر کا لا سے عیاں

سب کو منہ مانگی مرادیں ملتی ہیں اِس عرس میں
آتے ہیں روتے ہوئے جاتے ہیں ہنستے شادماں

اس طرف ایسی بہاریں اس طرف حکم خدا
جاتی ہے سر پیٹتی اس بزم سے عمر رواں

کچھ خبر بھی ہے تجھے اے دل یہ کس کا عرس ہے
پائی اس محفل نے کس سے زیب و زین و عزو شاں

طالب مطلوبِ یزداں حضرتِ فضلِ رسول
موردِ فضل رسول و رحم خلاق جہاں

سالکِ راہِ حقیقت رہروِ مقصودِ شرع
رہنماے گمرہاں و پیشواے مرشداں

حاکم اصل فروع و عالم رمز اُصول
واقفِ حالِ حقیقت کاشفِ سِرِّ نہاں

حامیِ دین پیغمبر ماحیِ بنیادِ کفر
زاہد زین عبادت واعظ شیوا بیاں

آفتابِ چرخِ علم و ماہتابِ برجِ حلم
گوہر درج شرف یاقوت کانِ عز و شاں

شاہ دیہیم جلال و خسرو تخت کمال
نائب شاہنشہِ کونین فخر مرسلاں

انجمن آراے شرع و شمع بزمِ معرفت
زینت بستانِ فقر و زیبِ گلزارِ جناں

سیف مسلول حقیقت فارسِ مضمارِ فقر
طلعت شمع ہدایت مقتداے سالکاں

مزرعِ اِسلام کو اَبر کرم ذاتِ جناب
خرمن اَدیانِ باطل کو ہے برقِ بے اماں

حاضر عرسِ معلی ہیں بہت اربابِ علم
وہ پڑھوں مطلع کہ سن کر سن ہوں سب اہل زباں

گر کبھی فرمائے تو توحیدِ واحد کا بیاں
کہہ دے ہندوے فلک بھی ٹھیک ہے یہ بے گماں

دی خداے پاک نے تجھ کو حیاتِ بے ممات
لایموتون ہے تیری شان میں اے جانِ جاں

دین پیغمبر کو تیری ذات سے ہے تقویت
تیرے جلوؤں سے منور خطۂ ہندوستاں

تیرے اچھے ہونے میں کس کو رہی جاے سخن
تیرے مرشد کے ہیں مرشد حضرتِ اچھے میاں

مُلحِدوں کو بات تیری سیف ہے جبار کی
معتقد کو قول تیرا موجب امن و اماں

دے جو کچھ دینا ہو شاہا اس کے جلدومیں مجھے
تیرے دَر پہ لے کے آیا ہوں قصیدۂ ارمغاں

ہو دعاے خیر میری دین و دنیا کی قبول
یہ صلہ پائے شہا تیرا گداے آستاں

اے حسنؔ اب کر دعا اللہ سے با التجا
کیا عجب ہے گر کہیں آمیں گروہِ قدسیاں

یا خدا جب تک ہے مہر و ماہ میں جلوہ گری
دَہر میں قائم رہے جب تک یہ دورِ آسماں

کُنج خلوت میں ہو جب تک زاہد گوشہ نشیں
شمع کو حاصل ہیں جب تک انجمن آرائیاں

کعبہ کے در پر ہے جب تک فرقِ زاہد سجدہ ریز
شاغل حمد خدا جب تک رہیں کرّو بیاں

جلوۂ وحدت رہے کثرت میں جب تک آشکار
صوفیوں کا دَہر میں جب تک رہے نام و نشاں

مولوی عبد قادر زیب سجادہ رہیں
تابع فرمانِ والا ہو ہر اک پیر و جواں

دے مدد اقوالِ والا کو کلام اللہ پاک
پیش حضرت قول دشمن کا ہو شاخِ زعفراں

ان کے دشمن کو ہمیشہ کلفت و کربت نصیب
جو دعا گو ہیں رہیں فرحت نصیب و شادماں

ذوقِ نعت

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.