ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے

 

ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے
ہم بے کسوں کے حال پہ تجھ کو نظر بھی ہے

جوشِ عطش بھی شدّتِ سوزِ جگر بھی ہے
کچھ تلخ کامیاں بھی ہیں کچھ دردِ سر بھی ہے

ایسا عطا ہو جام شرابِ طہور کا
جس کے خمار میں بھی مزہ ہو سُرور کا

اب دیر کیا ہے بادۂ عرفاں قوام دے
ٹھنڈک پڑے کلیجہ میں جس سے وہ جام دے

تازہ ہو رُوح پیاس بجھے لطف تام دے
یہ تشنہ کام تجھ کو دعائیں مدام دے

اُٹھیں سرور آئیں مزے جھوم جھوم کر
ہو جاؤں بے خبر لبِ ساغر کو چوم کر

فکرِ بلند سے ہو عیاں اقتدارِ اوج
چہکے ہزار خامہ سرِ شاخسارِ اوج

ٹپکے گل کلام سے رنگِ بہارِ اوج
ہو بات بات شانِ عروج افتخارِ اوج

فکر و خیال نور کے سانچوں میں ڈھل چلیں
مضموں فرازِ عرش سے اُونچے نکل چلیں

اِس شان اِس اَدا سے ثناے رسول ہو
ہر شعر شاخِ گل ہو تو ہر لفظ پھول ہو

حُضّار پر سحابِ کرم کا نزول ہو
سرکار میں یہ نذرِ محقر قبول ہو

ایسی تعلّیوں سے ہو معراج کا بیاں
سب حاملانِ عرش سنیں آج کا بیاں

معراج کی یہ رات ہے رحمت کی رات ہے
فرحت کی آج شام ہے عشرت کی رات ہے

ہم تیرہ اختروں کی شفاعت کی رات ہے
اعزاز ماہِ طیبہ کی رُؤیت کی رات ہے

پھیلا ہوا ہے سرمۂ تسخیر چرخ پر
یا زلف کھولے پھرتی ہیں حوریں اِدھر اُدھر

دل سوختوں کے دل کا سویدا کہوں اِسے
پیر فلک کی آنکھ کا تارا کہوں اِسے

دیکھوں جو چشمِ قیس سے لیلیٰ کہوں اِسے
اپنے اندھیرے گھر کا اُجالا کہوں اِسے

یہ شب ہے یا سوادِ وطن آشکار ہے
مشکیں غلافِ کعبۂ پروردگار ہے

اس رات میں نہیں یہ اندھیرا جھکا ہوا
کوئی گلیم پوشِ مراقب ہے با خدا

مشکیں لباس یا کوئی محبوبِ دلربا
یا آہوے سیاہ یہ چرتے ہیں جا بجا

ابرِ سیاہ مست اُٹھا حالِ وجد میں
لیلیٰ نے بال کھولے ہیں صحراے نجد میں

یہ رُت کچھ اور ہے یہ ہوا ہی کچھ اور ہے
اب کی بہارِ ہوش رُبا ہی کچھ اور ہے

روے عروسِ گل میں صفا ہی کچھ اور ہے
چبھتی ہوئی دلوں میں اَدا ہی کچھ اور ہے

گلشن کھلائے بادِ صبا نے نئے نئے
گاتے ہیں عندلیب ترانے نئے نئے

ہر ہر کلی ہے مشرق خورشیدِ نور سے
لپٹی ہے ہر نگاہ تجلیِ طور سے

روہت ہے سب کے منہ پہ دلوں کے سُرور سے
مردے ہیں بے قرار حجابِ قبور سے

ماہِ عرب کے جلوے جو اُونچے نکل گئے
خورشید و ماہتاب مقابل سے ٹل گئے

ہر سمت سے بہار نواخوانیوں میں ہے
نیسانِ جودِ ربّ گہر افشانیوں میں ہے

چشمِ کلیم جلوے کے قربانیوں میں ہے
غل آمدِ حضور کا رُوحانیوں میں ہے

اک دُھوم ہے حبیب کو مہماں بلاتے ہیں
بہرِ براق خلد کو جبریل جاتے ہیں

ذوقِ نعت

 

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.