عیسیٰ نے وہ ماجرا سنایا

 

عیسیٰ نے وہ ماجرا سنایا
جس نے دلِ مُردہ کو جِلایا

کہتے ہیں کہ پیش شاہِ ابرار
آ کر یہ کیا کسی نے اظہار

اک شخص کہ حال میں مرا ہے
کیا جانیے اُس پہ کیا بَلا ہے

مرقد میں ہے درد مند ہر دم
ہے شور و فُغاں بلند ہر دم

فرمانے لگے یہ سُن کے حضرت
کیا ہم سے وہ کر چکا ہے بیعت

اُس کا کبھی یاں ہوا ہے آنا
کھایا ہے ہمارے گھر کا کھانا

مخبر نے کہا کہ شاہِ ذی جاہ
ان باتوں سے میں نہیں کچھ آگاہ

اِرشاد ہوا کرم کا جھالا
محروم پہ ہے فزوں برستا

کچھ دیر مراقبہ کیا پھر
ہیبت ہوئی روئے شاہ سے ظاہر

پھر آپ یہ سر اُٹھا کے بولے
دیتے ہیں ہمیں خبر فرشتے

اُس شخص نے ایک بار سرور
دیکھا تھا جمال روئے انور

اور دل میں گمانِ نیک لایا
اس وجہ سے حق نے اُس کو بخشا(۱)

اُس قبر کو جا کے پھر جو دیکھا
فریاد کا کچھ اثر نہ پایا

عیسیٰ نے عجب خبر سنائی
کی جس کی ادا نے جاں فزائی

کیوں جان میں جان آ نہ جائے
ٹوٹے ہوئے آسرے بندھائے

کیا جوشِ سُرور آج کل ہے
ہر دل سے نشاط ہم بغل ہے

شادی نے وہ نوبتیں بجا دیں
سوتی ہوئی قسمتیں جگا دیں

ہیں وقف زباں خوشی کی باتیں
دن عیش کے خرّمی کی باتیں

عالم سے خزاں ہوئی روانہ
آیا ہے بہار کا زمانہ

عشرت کا سماں بندھا ہوا ہے
ہر پیڑ نہال ہو رہا ہے

کیا موسمِ گل نے گُدگُدایا
ہر پھول نے قہقہہ اُڑایا

آنکھوں میں بسا ہے جلوۂ گل
کیوں کر نہ ہو باغ باغ بلبل

آباد سرور ہے گلستاں
ہر پھول چمن، چمن ہے خنداں

شبنم نے لُٹائے ہیں جو گوہر
ہے شاہدِ گل کی یہ نچھاور

مستوں کو صبا پکار لائی
گلزار چلو بہار آئی

تیار ہوئے جنوں کے ساماں
ہاتھوں میں لیے ہوئے گریباں

کرنے لگی فصلِ گل اِشارہ
ہو دامن و جیب پارہ پارہ

جب تک کہ ہے یہ بہار باقی
دامن میں رہے نہ تار باقی

سودے کا جما ہے آج بازار
سر بیچنے کو چلیں خریدار

مستوں نے کیا ہجوم ہر سمت
ہے موسمِ گل کی دُھوم ہر سمت

اک شور ہے سبزہ زار دیکھو
صحرا کو چلو بہار دیکھو

دیکھے تو کوئی حسنؔ کی رفتار
ہے سب سے نئے چلن کی رفتار

آنکھوں میں بہارِ اشک شادی
چہرہ سے ظہور بامرادی

ہونٹوں میں بھرا ہوا تبسم
خاموش کبھی کبھی تکلم

کرتے ہیں کسی کی جستجوئیں
دل سینہ میں دل میں آرزوئیں

کیفیتِ ذوق و وجد طاری
ہر گام لب و زباں سے جاری

یا غوث تیرے نثار جاؤں
قربان ہزار بار جاؤں

ہو جوش جہاں تیرے کرم کا
کیا ذکر وہاں غم و اَلم کا

وہ مژدہ سنا دیا ہے، تُو نے
روتوں کو ہنسا دیا ہے، تو نے

سلطان کریم تُو گدا میں
کھاتا ہوں تیرا دیا ہوا میں

یا شاہ غلام ہے خطا کار
زندانِ گناہ میں گرفتار

للہ کرو گرہ کشائی
اس دامِ بلا سے دو رہائی

بندے کو عذاب سے بچا لو
اپنے درِ پاک پر بُلا لو

عارِض سے نقاب اُٹھا کے اک بار
کر دو مجھے محو حُسنِ رخسار

دیکھوں جو بہار جلوہ حسن
ہو جاؤں نثار جلوۂ حسن

دل سے خلشِ اَلم نکل جائے
اَرمان کے ساتھ دم نکل جائے

پُر نُور میرا چراغ ہو جائے
مرقد مجھے خانہ باغ ہو جائے

محشر میں نہ پاؤں شرمساری
ہو ساتھ ترے ترا بھکاری

عزت سے میری بسر ہو دنیا
ذلت نہ ہو مجھ کو روزِ عقبیٰ

کافی ہو مجھے تیرا سہارا
محتاج رہوں نہ میں کسی کا

مغفور ہوں میرے سب اَبْ و جَدْ
ہوں منزلِ نور اُن کے مرقد

ماں میری کہ ہے کنیزِ سرکار
غم دُکھ سے نہ ہو کبھی خبردار

کونین میں میرے بھائیوں پر
ہو لطف حضور سایہ گستر

غم اُن سے جدا رہے ہمیشہ
مقبول دُعا رہے ہمیشہ

جس طرح کہ اب ہیں شِیر و شکر
یوہیں رہیں ہم جناں میں مل کر

دنیا میں الگ نہ ہونے پائے
جنت میں بھی ساتھ ساتھ جائیں

دل شاد رہیں حسین(۱) و حامد(۲)
آباد رہیں حسین و حامد

سرکار کریم سے عنایت
ہو دونوں کو دو جہاں کی نعمت

دونوں کی دعا نہ کیوں ہو دل سے
مشہور ہے میرے دونوں میٹھے

شاہا میرے دوست اور اعزّہ
منظور کرم رہیں ہمیشہ

بس اے دل محوِ اِلتجا بس
مشتاقِ حصولِ مدعا بس

بغداد سے آتی ہیں صدائیں
مقبول ہوئیں تری دُعائیں

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) بہجۃ الاسرار، صفحہ194 میں ہے کہ حضور غوث پاک نے ارشاد فرمایا: اِنَّہٗ رَا ٰیَ وَجْھَکَ وَ اَحْسَنَ بِکَ الظَّنَّ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ قَدْ رَحِمَہٗ بِذَالِکَ۔ یعنی اس نے آپ کا چہرہ دیکھا ہے اور آپ سے اس کو حسنِ ظن تھا اللہ عزوجل نے اس وجہ سے اس پر مہربانی فرمائی ہے۔ قادری

وسائلِ بخشش

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.