وارث علوم اعلی حضرت جانشینِ حضور مفتیِ اعظم ہند پیر طریقت فخر ازہر تاج الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری رضوی ازہری بریلوی علیہ الرحمہ کی شان میں نذارانہ ٕ عقیدت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الحَمْدُ ِللہ اس منقبت کی خصوصیت یہ ہے کہ ناچیز نے اسے پیر و مرشد حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے مزار شریف کے(روبرو) پاس بیٹھ کر لکھنے کا شرف حاصل کیا

اور اس کلام کی تعریف استاذ محترم استاذ الشعرا ٕ شاعر کبیر علامہ سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی (اطال اللہ عمرہ) نے بھی فرماٸی

۔۔۔میرے تاج الشریعہ کی کیا شان ہے۔۔۔

گلشن اعلی حضرت کی جو جان ہے
میرے تاج الشریعہ کی کیا شان ہے
مسلک اعلی حضرت کی پہچان ہے
میرے تاج الشریعہ کی کیا شان ہے

جس کے والد مفسر ہیں قرآن کے
جس کے دادا محافظ ہیں ایمان کے
جس کا نانا بریلی کا سلطان ہے
میرے تاج الشریعہ کی کیا شان ہے

جس کے بابا ولی ، جس کے تایا ولی
جس کے دادا ولی ، جس کے ناناولی
جس کی عظمت پہ ہر ایک قربان ہے
میرے تاج الشریعہ کی کیا شان ہے

علم و تقوی کی جوپیاری تصویر ہے
جس نے پاٸی عزیمت کی تنویر ہے
استقامت کی مضبوط چٹان ہے
میرے تاج الشریعہ کی کیا شان ہے

جو علومِ رضا کا ہے وارث بنا
جس کے سر فخرِ ازہر کا سہرا سجا
وہ بریلی کا اختر رضا خان ہے
میرے تاج الشریعہ کی کیا شان ہے

تیز تلوار سے جس کی تحریر ہے
اور بجلی کی مانند تقریر ہے
دشمنِ دین جس سے پریشان ہے
میرے تاج الشریعہ کی کیا شان ہے

جس کی نظر ولایت کے ہیں تذکرے
اب بھی جاری کرامت کےہیں سلسلے
ہند میں چارسو جس کا فیضان ہے
میرے تاج الشریعہ کی کیا شان ہے

میرا مرشد ہے جو میرا رہبر ہے جو
عشق و الفت کا بےشک سمندرہےجو
جو مری زندگی اور مری جان ہے
میرے تاج الشریعہ کی کیا شان ہے

حسنِ اخترکو کیسےکروں میں بیاں
جس کےچہرےکو میں دیکھتارہ گیا
دیکھ کر جس کو مسکایا ایمان ہے
میرے تاج الشریعہ کی کیا شان ہے

سچے سنی سےہےاس کو الفت بڑی
دشمن مصطفی سے ہے نفرت بڑی
صلح کلی کی خاطر وہ طوفان ہے
میرے تاج الشریعہ کی کیا شان ہے

حق تعالی سے پایا تھا وہ دبدبہ
کوٸی بھی اس کے آگے نہ ٹھہرا ذرا
اس نے ہی جیتا ہر ایک میدان ہے
میرے تاج الشریعہ کی کیا شان ہے

اک سروں کا سمندر بریلی میں تھا
میرے مرشد کا جس دم جنازہ اٹھا
آج بھی عقلِ انسان حیران ہے
میرے تاج الشریعہ کی کیا شان ہے

کررہا ہوں میں مرشد کی عظمت بیاں
میرے پیش نظر ان کا ہے آستاں
میرے اختر رضا کا یہ فیضان ہے
میرے تاج الشریعہ کی کیا شان ہے

کفر کی آندھیوں سے بھی ٹکرا گیا
رب نے بخشا تھا ایسا اسے حوصلہ
عاصم القادری جس پہ قربان ہے
میرے تاج الشریعہ کی کیا شان ہے

از✍️
اسیر تاج الشریعہ
محمد عاصم القادری رضوی مرادآبادی (ہند)
شاگردِ علامہ سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی بارہ بنکوی( ہند)

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.