جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کے

جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کے   جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کے صدقے جاؤں میں تری انجمن آرائی کے بزم آرا ہوں اُجالے تری زیبائی کے کب سے مشتاق ہیں آئینے خود آرائی کے ہو غبارِ درِ محبوب کہ گردِ رہِ دوست جزو اعظم ہیں یہی سرمۂ بینائی کے خاک …

جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کے Read More »