سر صبحِ سعادت نے گریباں سے نکالا

سر صبحِ سعادت نے گریباں سے نکالا   سر صبحِ سعادت نے گریباں سے نکالا ظلمت کو ملا عالمِ اِمکاں سے نکالا پیدائشِ محبوب کی شادی میں خدا نے مدت کے گرفتاروں کو زِنداں سے نکالا رحمت کا خزانہ پئے تقسیم گدایاں اﷲ نے تہ خانۂ پنہاں سے نکالا خوشبو نے عنادِل سے چھڑائے چمن …

سر صبحِ سعادت نے گریباں سے نکالا Read More »