صانع نے اِک باغ لگایا

صانع نے اِک باغ لگایا صانع نے اِک باغ لگایا باغ کو رشک خلد بنایا خلد کو اس سے نسبت ہو کیا گلشن گلشن صحرا صحرا چھائے لطف و کرم کے بادل آئے بذل و نعم کے بادل خوب گھریں گھنگھور گھٹائیں کرنے لگیں غل شور گھٹائیں لہریں کرتی نہریں آئیں موجیں کرتی موجیں لائیں …

صانع نے اِک باغ لگایا Read More »