نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا

نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا حضورِ خاکِ مدینہ خمیدہ ہونا تھا اگر گُلوں کو خزاں نا رسیدہ ہونا تھا کنارِ خارِ مدینہ دمیدہ ہونا تھا حضور اُن کے خلافِ ادب تھی بے تابی مِری اُمید تجھے آرمیدہ ہونا تھا نظارہ خاکِ مدینہ کا اور تیری آنکھ …

نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا Read More »