رونق بزم جہاں ہے عاشقان سوختہ
رونق بزم جہاں ہے عاشقان سوختہ رونق بزم جہاں ہے عاشقان سوختہ کہہ رہی ہے شمع کی گویا زبان سوختہ جس کو قرص مہر سمجھا ہے جہاں اے منعمو ان کے خو ان جود سے ہے ایک نان سوختہ ماہ من یہ نیر محشر کی گرمی تابکے آتش عصیاں میں خود جلتی ہے جان سوختہ … Read more