نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا ساتھ ہی منشیِ رحمت کا قلم دان گیا لے خبر جلد کہ غیروں کی طرف دھیان گیا میرے مولیٰ مِرے آقا ترے قربان گیا آہ وہ آنکھ کہ نا کامِ تمنّا ہی رہی ہائے وہ دل جو تِرے در سے پُر …

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا Read More »