واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا اَولیا ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا کیا دبے جس پہ حمایت کا ہو پنجہ تیرا شیر کو خطرے میں لاتا نہیں کتّا تیرا تو حسینی حسنی کیوں نہ … Read more