پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں رخصت قافلہ کا شور غش سے ہمیں اٹھائے کیوں سوتے ہیں ان کے سایہ میں کوئی ہمیں جگائے کیوں بار نہ تھے حبیب کو … Read more