کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج

کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج   کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج کاغذ پہ جو سو ناز سے رکھتا ہے قدم آج آمد ہے یہ کس بادشہِ عرش مکاں کی آتے ہیں فلک سے جو حسینانِ اِرم آج کس گل کی ہے آمد کہ خزاں دیدہ چمن میں آتا ہے … Read more